ولی امر مسلمین کسے کہتے ہیں؟
ولی امر مسلمین کسے کہتے ہیں؟
پیغمبر اکرم(ص) کی وفات کے ساتھ اسلامی قوانین اور احکام معطل نہیں ہوئے بلکہ صرف اتنا ہوا کہ امت اسلامیہ کی رہبری ائمہ معصومین (ع) کے دوش پر آگئی ۔ امام حسن عسکری(ع) کی شہادت کے بعد اور بارہویں امام کی غیبت کے زمانہ میں بھی، مسلمانوں کی دینی اور فکری ہدایت جاری رہی ۔ کیونکہ خداوند متعال نے اس دین کو ساری دنیا کے لئے آخری و کامل دین اور قرآن کو آخری آسمانی کتاب قرار دیا ہے  جو قیامت تک کے آنے والے انسانوں کی انفرادی  اور اجتماعی زندگی کے لئے رہنما ہے ۔ سب سے بہتر اور عقلی راستہ یہی ہے کہ خدا کے قوانین اور احکام، اسلامی حکومت کے ذریعہ جاری رہیں۔ اگر چہ لوگ دین کے بارے میں علم رکھنے والے اور دیندار ہی کیوں نہ ہوں ، لیکن اگر حکومت، غیر اسلامی اور ظالم ہو گی تو اسلام کے احکام کو پوری طرح  پورے معاشرہ پر جاری کرنے کا امکان پیدا ہو  ہی نہیں سکتا ہے ۔

بہترین قانون بھی صرف اسی وقت اہمیت رکھتا ہے جب اسکو عمل میں لایا جائے ورنہ صرف قانون کا بنا دینا کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔ کسی قانون کو عملی وجود دینا اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کچھ لوگ یا کوئی سماج اسے عمل میں لائے۔

مندرجہ بالا وضاحت سے یہ نتیجہ بخوبی نکلتا ہے کہ امام زمانہ (ع) کی غیبت کے زمانہ میں واحد اور صحیح راستہ یہ ہے کہ ایک اسلامی حکومت ہو جو خدا کے احکام و قوانین کو سماج میں اجرا کرے ۔ لہذا ایسی اسلامی حکومت جو غیبت امام کے دور میں قائم ہو اس میں سب سے اعلیٰ درجہ پر فائز ہونے والے شخص کو ” ولی امر مسلمین " کہا جاتا ہے ۔