عصر غیبت میں ہماری کیا ذمہ داری ہے؟
ہم چونکہ خداوند متعال کے بندے اور مسلمان ہیں اس لئے ہم جس دینی وظیفہ کو اور ذمہ داری کو انجام دیں، اسکے لئے ضروری ہے کہ خدا کے فرمان کے مطابق ہو۔ ہم خدا کے حکم کو فقط قرآن، پیغمبر اور ائمہ معصومین (ع) کے اقوال کے ذریعہ سمجھ  سکتے ہیں ۔ علمائے دین بھی جو علم دین حاصل کرتے ہیں  وہ خدا، پیغمبر اور ائمہ معصومین (ع) کے اقوال اور احادیث کے ذریعہ ہی حاصل کرتے ہیں ۔ چونکہ ہم اس زمانہ میں پیغمبر اور امام معصوم (ع) تک براہ راست نہیں پہونچ سکتے اس لئے، ائمہ معصومین (ع) نے ہماری رہنمائی فقہائے دین کی طرف کی ہے اور انکی نظر اور فتوے کو ہمارے لئے حجت قرار دیا ہے ۔ اس طرح   ہم مرجع تقلید کے فتوے پر عمل کرکے مطمئن ہو سکتے ہیں کہ ہم نے اپنے دینی وظیفہ کو انجام دے دیا ہے اور ہم اس سے سبکدوش ہو گئے ہیں کیونکہ ہم ثبوت اور سند رکھتے ہیں ۔ ہماری حجت اور ثبوت، فقہا کا فتویٰ ہے جو ائمہ معصومین (ع) کی جانب سے ہمارے لئے معتبر قرار دیا گیا ہے۔